ٹک ٹک

قسم کلام: اسم صوت

معنی

١ - ٹِک کی تکرار۔      "اس گھڑی کے مطابق ایک ثانیہ میں دو دفعہ ٹک ٹک کی میعاد کم ہو جائے گی۔"     رجوع کریں:   ( ١٩١٨ء، تحفۂ سائنس، ٧٥ ) ٢ - ٹائپ رائٹر کے چلنے کی آواز۔ "کھلی ہوئی کھڑکیوں اور دروازوں سے کھٹ کھٹ اور کبھی کبھی ٹائپ رائٹر کی ٹِک ٹِک سنائی دیتی۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا، ٤٧:١ ) ٣ - گھوڑے گدھے یا بیل کو ٹٹکارنے کی آواز، ٹٹکاری۔ "ایک خر نا ہموار گھوڑے پر سوار - ٹک ٹک کرتا چلا جاتا تھا۔"      ( ١٨١٤ء، نورتن، ١٦٢ ) ٤ - زمین پر چھڑی مارنے کی آواز۔ "پہلا آدمی چھڑی سے ٹک ٹک کرتا مالا باری ہوٹل میں داخل ہوا۔"      ( ١٩٧٤ء، 'افکار' کراچی، نومبر، ٣٦ ) ٥ - چمگادڑ کے بولنے کی آواز۔ "دن کے وقت غاروں میں یا عمارات میں ٹک ٹک کی آواز نکالتے ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، مغربی پاکستان کے میمل، ٣٤:١ )

اشتقاق

انگریزی زبان سے ماخوذ اسم 'ٹک' کی تکرار سے اردو زبان میں 'ٹک ٹک' بنا جوکہ بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٤ء میں "نورتن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ٹِک کی تکرار۔      "اس گھڑی کے مطابق ایک ثانیہ میں دو دفعہ ٹک ٹک کی میعاد کم ہو جائے گی۔"     رجوع کریں:   ( ١٩١٨ء، تحفۂ سائنس، ٧٥ ) ٢ - ٹائپ رائٹر کے چلنے کی آواز۔ "کھلی ہوئی کھڑکیوں اور دروازوں سے کھٹ کھٹ اور کبھی کبھی ٹائپ رائٹر کی ٹِک ٹِک سنائی دیتی۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا، ٤٧:١ ) ٣ - گھوڑے گدھے یا بیل کو ٹٹکارنے کی آواز، ٹٹکاری۔ "ایک خر نا ہموار گھوڑے پر سوار - ٹک ٹک کرتا چلا جاتا تھا۔"      ( ١٨١٤ء، نورتن، ١٦٢ ) ٤ - زمین پر چھڑی مارنے کی آواز۔ "پہلا آدمی چھڑی سے ٹک ٹک کرتا مالا باری ہوٹل میں داخل ہوا۔"      ( ١٩٧٤ء، 'افکار' کراچی، نومبر، ٣٦ ) ٥ - چمگادڑ کے بولنے کی آواز۔ "دن کے وقت غاروں میں یا عمارات میں ٹک ٹک کی آواز نکالتے ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، مغربی پاکستان کے میمل، ٣٤:١ )

جنس: مؤنث